آج ہمارا پہلا درس صحاحِ ستہ کی مایہ ناز کتاب ”جامع ترمذی“ کے مؤلف، امامِ وقت، الحافظ الحجة ابو عیسیٰ الترمذی رحمہ اللہ کے حالاتِ زندگی اور ان کے علمی مقام و مرتبے کے بیان میں ہے۔ کسی بھی کتاب کو پڑھنے سے پہلے اس کے مصنف کے احوال اور علمی جلالت کو جاننا علمِ حدیث میں انتہائی ضروری ہے، تاکہ دل میں ان کی عظمت اور ان کی روایت کردہ احادیث پر اعتماد پختہ ہو سکے۔
علمائے حدیث نے امام ترمذی رحمہ اللہ کے نام اور نسب کی تفصیل میں مختلف اقوال ذکر کیے ہیں، جو ان کے خاندان کی شہرت کی دلیل ہیں۔
راجح اور مشہور نام: آپ کا نام محمد، کنیت ابو عیسیٰ ہے، اور پورا نسب اس طرح ہے: محمد بن عیسیٰ بن سورہ بن موسیٰ بن ضحاک۔
دیگر اقوال: بعض ائمہ نے آپ کے نسب میں کچھ تفاوُت کا ذکر کیا ہے:
📌 القاب اور نسبتوں کی لغوی و تاریخی تشریح:
امام ترمذی رحمہ اللہ کے نام کے ساتھ تین بنیادی نسبتیں لگتی ہیں جن کا تلفظ اور تاریخی پس منظر درج ذیل ہے:
تاریخِ ولادت: امام ترمذی رحمہ اللہ کی پیدائش ۲۰۹ ہجری کو ہوئی۔
پرانے زمانے میں ائمہ کرام کی پیدائش کے مہینے یا دن کو محفوظ کرنے کا اتنا اہتمام نہیں کیا جاتا تھا، جتنا اہتمام ان کے سالِ ولادت، علمی اسفار، اساتذہ اور سالِ وفات کو ضبط کرنے کا ہوتا تھا کیونکہ پیدائش کے وقت وہ کوئی مشہور شخصیت نہیں ہوا کرتے تھے۔
📌 ترمذ کا محل وقوع اور موجودہ جغرافیہ:
ترمذ (Termez): زمانہ قدیم میں یہ شہر ماوراء النہر (Transoxiana) اور خراسان کے بڑے علمی مراکز میں شمار ہوتا تھا۔ آج کے جدید نقشے پر یہ وسطی ایشیا کے ملک ازبکستان کے بالکل جنوب میں، افغانستان کی سرحد کے قریب واقع ہے، اور صوبہ سُرخان دریا کا دارالحکومت ہے۔ یہ دریائے جیحوں (آمو دریا) کے کنارے پر واقع ایک انتہائی اہم تاریخی اور تجارتی شہر ہے۔
مقامِ پیدائش کی تحقیق: آپ کے مقامِ پیدائش اور وفات کے بارے میں علمائے تاریخ میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔ علامہ سمعانیؒ نے اپنی کتاب ”الانساب“ میں ایک جگہ لکھا ہے کہ وہ ”بوغ“ نامی گاؤں میں پیدا ہوئے اور وہیں فوت ہوئے، جبکہ دوسری جگہ لکھا کہ وہ ترمذ شہر میں پیدا ہوئے۔
راجح بات: ان تمام اقوال میں درست اور راجح بات یہ ہے کہ امام ترمذی رحمہ اللہ ترمذ کے ایک قریبی گاؤں ”بوغ“ میں پیدا ہوئے اور وہیں وفات پائی۔ جن مؤرخین نے آپ کو ترمذ شہر کا لکھا ہے، انہوں نے مجازاً ایسا کہا ہے، کیونکہ بوغ کوئی الگ بڑا شہر نہیں تھا بلکہ ترمذ کے ماتحت اس کا سب سے قریبی گاؤں تھا۔
امام ترمذی رحمہ اللہ نے ایک ایسے علمی ماحول میں آنکھ کھولی جہاں احادیثِ رسول ﷺ کو جمع کرنے کا شوق عروج پر تھا۔ آپ نے اپنے علاقے کے علماء سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد علمِ حدیث کی پیاس بجھانے کے لیے دور دراز کے ممالک کا رخ کیا۔ آپ نے حجاز (مکہ و مدینہ)، عراق اور خراسان کا سفر کیا اور اپنے وقت کے سب سے بڑے محدثین کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا۔
آپ کے علم کا سب سے بڑا خاصہ یہ تھا کہ آپ نے صرف احادیث کو حفظ نہیں کیا، بلکہ فقہ الحدیث (حدیث کی سمجھ)، علل (احادیث کے پوشیدہ عیوب کی پہچان) اور رجال و تاریخ (راویوں کے احوال) کے علوم میں مہارتِ تامہ حاصل کی، اور ان علوم میں آپ کے سب سے بڑے مربی امام البخاری رحمہ اللہ بنے۔
امام ترمذی رحمہ اللہ کے مشائخ کی تعداد دو سو (۲۰۰) سے زائد ہے۔ ائمہ صحاحِ ستہ کے ساتھ ان کے اساتذہ کی شرکت کی تفصیل:
📌 امام ترمذی کے دس مشہور اساتذہ:
امام ترمذیؒ نے علمِ علل اور فقہ الحدیث میں سب سے زیادہ فائدہ امام البخاریؒ اور امام عبداللہ بن ابی زرعہؒ سے اٹھایا۔ جامع ترمذی میں متعدد مقامات پر امام ترمذی نے «حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ» کہہ کر براہِ راست اپنے استاد امام بخاریؒ سے احادیث روایت کی ہیں۔ ان میں سے دو مشہور مقامات:
۱۔ پہلا مقام (تفسیر سورہ الحشر):
۲۔ دوسرا مقام (کتاب المناقب — حدیث نمبر ۳۷۸۹):
کیا صحیح بخاری میں امام ترمذیؒ کی روایات ہیں؟
البتہ امام بخاریؒ نے صحیح بخاری سے باہر، علمی مذاکروں اور کتبِ علل (جیسے امام ترمذی کی العلل الکبیر) میں امام ترمذیؒ کے علمی رسوخ اور ان کے حافظے پر اعتماد کرتے ہوئے ان سے علمی فوائد اور روایات قبول کی ہیں۔ اسے «رِوَايَةُ الْأَكَابِرِ عَنِ الْأَصَاغِرِ» (استاد کا اپنے شاگرد سے روایت کرنا) کہتے ہیں۔
بڑے بڑے ائمہ نے امام ترمذیؒ کے حفظ، ضبط اور امانت داری کا اعتراف کیا ہے:
علامہ سمعانیؒ کا قول:
”وہ بلا مدافعت (بلا کسی اختلاف کے) اپنے زمانے کے امام تھے، وہ ان ائمہ میں سے ایک تھے جن کی علمِ حدیث میں اقتدا کی جاتی ہے، اور حفظ و ضبط میں ان کی مثال دی جاتی تھی“
ابن الاثِیرؒ کا قول:
”وہ ایسے حافظ امام تھے جن کی عمدہ تصنیفات ہیں، جن میں 'الجامع الکبیر' بھی شامل ہے“
امام بخاریؒ کا تاریخی جملہ:
”جتنا فائدہ میں نے آپ سے اٹھایا ہے، وہ اس سے زیادہ ہے جو آپ نے مجھ سے اٹھایا ہے“
سبحان اللہ! ایک استاد کا اپنے شاگرد کو یہ کہنا امام ترمذیؒ کی غیر معمولی ذہانت اور علمِ علل پر گرفت کی سب سے بڑی سند ہے۔
ابو جعفر بن الزبیرؒ کا قول:
”امام ترمذیؒ کو حدیث کی صنعت کے فنون میں وہ مقامِ کمال حاصل ہے جس میں کوئی دوسرا ان کا شریک نہیں“
جس طرح امام ترمذیؒ کے اساتذہ کثیر تھے، اسی طرح ان کے علم کے چشمے سے فیض یاب ہونے والے شاگردوں کی تعداد بھی بے شمار ہے۔ دس مشہور تلامذہ:
امام ترمذیؒ صرف ایک راوی ہی نہیں بلکہ ایک کثیر التصانیف مصنف بھی تھے۔ آپ کی مشہور کتب:
عام طور پر ہم اس کتاب کو ”سنن ترمذی“ یا ”جامع ترمذی“ کہتے ہیں، لیکن ائمہ کے ہاں مختلف تعبیرات ملتی ہیں: صحيح الترمذي، الجامع، الجامع الكبير، السنن، الجامع الصحيح وغیرہ۔ پر اس پر ”صحیح“ کا اطلاق اس لیے کیا گیا کیونکہ اس کی اکثریت احادیث صحیح یا حسن کے درجے پر ہیں۔
شیخ عبدالفتاح ابو غدہؒ کی تحقیق کے مطابق امام ترمذیؒ نے خود اس کتاب کا جو تفصیلی نام رکھا وہ یہ ہے:
(یعنی: رسول اللہ ﷺ کی سنن کا ایسا مختصر مجموعہ جس میں صحیح اور معلول احادیث کی معرفت ہو، اور ساتھ ہی یہ بیان ہو کہ امت میں کس حدیث پر عمل کیا جاتا ہے)۔
امام ترمذی رحمہ اللہ نے اپنی پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول ﷺ کی صداؤں میں گزاری۔
صحیح اور مستند تاریخِ وفات: الحافظ ابن العباس المستغفری کی تحقیق کے مطابق، جس پر تمام ائمہ اور علماء کا اعتماد ہے، امام ترمذیؒ ۱۳ رجب المرجب، سنہ ۲۷۹ ہجری، پیر کی رات کو اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے اور اپنے آبائی گاؤں ”بوغ“ (ترمذ) میں سپردِ خاک ہوئے۔
عزیز طلبہ و طالبات! امام ترمذیؒ کی غیر معمولی یادداشت اور فقہی ملکہ صرف زبانی باتیں نہیں، بلکہ کتبِ تواریخ و رجال (مثلاً الحافظ المزی کی تہذیب الکمال اور امام ذہبی کی سیر اعلام النبلاء) میں اس کے حیرت انگیز سچے واقعات درج ہیں:
واقعہ ۱: یادداشت کا تاریخی امتحان (سفرِ مکہ کا واقعہ)
امام ترمذیؒ خود بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سفرِ مکہ کے دوران میں نے ایک شیخ کی احادیث کے دو جز (حصے) لکھ کر اپنے پاس رکھے ہوئے تھے۔ اتفاق سے وہ شیخ اسی سفر میں مجھے مل گئے، تو میں نے ان سے درخواست کی کہ میں آپ سے وہ احادیث براہِ راست سننا چاہتا ہوں۔ شیخ راضی ہو گئے۔ لیکن جب میں نے اپنے تھیلے میں ہاتھ ڈالا تو پتا چلا کہ میں جلدی میں احادیث والے کاغذات کے بجائے بالکل کورے (خالی) کاغذات اٹھا لایا ہوں! شیخ نے احادیث پڑھنا شروع کر دیں اور میں ان کورے کاغذوں کو دیکھتا رہا۔ جب شیخ کی نظر پڑی تو وہ سخت غصے ہوئے اور کہا: ”تم مجھ سے مذاق کر رہے ہو؟“ میں نے ادب سے عرض کیا: ”حضرت! مجھے آپ کی پڑھی ہوئی تمام احادیث اسی طرح زبانی یاد ہو گئی ہیں”۔ شیخ نے امتحاناً کہا: ”اچھا سناؤ!" میں نے اسی وقت وہ تمام احادیث (جو کہ کئی درجن تھیں) اسی سند اور ترتیب کے ساتھ سنا دیں! شیخ حیران رہ گئے اور کہنے لگے: ”میں نے زندگی میں تمہارا جیسا حافظہ نہیں دیکھا”۔
واقعہ ۲: غائبانہ حافظے پر امام بخاریؒ کا اعتماد
امام ترمذیؒ نے اپنی کتاب ”العلل الکبیر“ میں صراحت کے ساتھ ایسے مقامات ذکر کیے ہیں جہاں انہوں نے اپنے استاد امام بخاریؒ کے سامنے ایک حدیث پیش کی، اور امام بخاریؒ نے اس حدیث کی سند یا متن کو پہلے سے اس انداز میں محفوظ نہیں پایا تھا، بلکہ امام ترمذیؒ کے واسطے سے اس کی تصحیح فرمائی۔ ابو عقیل عن ابن عمرؓ کی ایک روایت کے بارے میں امام ترمذیؒ فرماتے ہیں: ”اس حدیث کے بارے میں محمد (امام بخاری) کے پاس کوئی لکھی ہوئی کتاب موجود نہیں تھی، بلکہ انہوں نے اس حدیث کی صحت و ثبوت میں میرے (ترمذی کے) حافظے پر اعتماد فرمایا۔“ یہ علمِ حدیث کا وہ اوجِ کمال ہے جہاں وقت کا سب سے بڑا محدث اپنے شاگرد کے حافظے پر تکیہ کر رہا ہے۔
واقعہ ۳: کثرتِ بکاء کی وجہ سے نابینا ہونا
امام ترمذیؒ اپنے استادِ محترم امام بخاریؒ سے کس قدر محبت کرتے تھے اور ان کی وفات کا ان پر کیا اثر ہوا، یہ واقعہ اس کی عکاسی کرتا ہے۔ ائمہ رجال لکھتے ہیں کہ جب امام بخاریؒ کی وفات ہوئی، تو امام ترمذیؒ ان کے غم میں اس قدر روئے، اس قدر روئے کہ مسلسل رونے کی وجہ سے ان کی آنکھوں کا نور چلا گیا اور زندگی کے آخری برسوں میں آپ نابینا (ضریر) ہو گئے تھے۔ یہ جہاں ان کے رقیق القلب ہونے کی دلیل ہے، وہیں اپنے استاد کے علمی مقام کے مٹ جانے کے شدید صدمے کا اظہار بھی ہے۔
واقعہ ۴: ”جس کے گھر میں یہ کتاب ہو، گویا وہاں نبی گفتگو کر رہا ہے“
جب امام ترمذیؒ نے اپنی یہ لازوال کتاب ”جامع ترمذی“ مکمل کی، تو آپ نے اس کی تصنیق کا دعویٰ خود نہیں کیا بلکہ اس دور کے سب سے بڑے ججوں (علماء) کے سامنے پیش کیا۔ آپ فرماتے ہیں: ”میں نے یہ کتاب حجاز، عراق اور خراسان کے علماء کے سامنے پیش کی، تو سب نے اسے بے حد پسند کیا اور اس کی صحت کی گواہی دی”۔ اور پھر آپ نے وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا جو رہتی دنیا تک اس کتاب کی عظمت کا نشان ہے: ”جس کے گھر میں یہ کتاب موجود ہو، تو گویا اس کے گھر میں خود نبیِ مکرم ﷺ موجود ہیں جو گفتگو فرما رہے ہیں“۔
واقعہ ۵: علمِ علل میں امام ترمذیؒ کی امامت کا اعتراف
ایک بار بغداد کے محدثین کے پاس ایک ایسی حدیث آئی جس کی سند بظاہر بالکل صحیح لگ رہی تھی لیکن متن میں کچھ الجھن تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس کا فیصلہ صرف ابو عیسیٰ الترمذیؒ ہی کر سکتے ہیں۔ جب یہ مسئلہ آپ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے فوراً اس راوی کے پچھلے کئی سالوں کے اساتذہ کا شجرہ پڑھ کر سنایا اور بتایا کہ اس راوی نے فلاں سال میں فلاں جگہ پر الجھن کھائی تھی، جس کی وجہ سے یہ سند معلول (کمزور) ہو گئی۔ یہ واقعہ ثبوت ہے کہ علمِ علل الحدیث (حدیث کے پوشیدہ عیوب) میں امام ترمذیؒ اپنے دور کے سب سے بڑے معالج تھے۔
اللہ تعالیٰ امام ترمذیؒ پر اپنی کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے حدیثِ رسول ﷺ کی مخلصانہ خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
پچھلے درس میں ہم نے امام ترمذیؒ کے مبارک حالاتِ زندگی پڑھے۔ آج ہم اس عظیم الشان کتاب ”جامع ترمذی“ کا تعارف پڑھیں گے جو آپ کے نصاب کا حصہ ہے۔ یاد رکھیں، علمِ حدیث کے طلباء و طالبات کے لیے پورے صحاحِ ستہ (حدیث کی چھ مشہور کتابیں) میں، عملی اور فقہی اعتبار سے یہ سب سے زیادہ فائدہ مند کتاب سمجھی جاتی ہے۔
علمِ حدیث سیکھنے والوں کے لیے یہ کتاب ایک انمول تحفہ ہے کیونکہ امام ترمذیؒ نے اس میں حدیث کا متن اور اس کی فقہ (مسائل) دونوں کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے۔ ان کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ پہلے حدیث ذکر کرتے ہیں، پھر یہ بتاتے ہیں کہ بڑے بڑے فقہاء کا اس حدیث پر کیا عمل ہے اور ان کا مؤقف کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ حدیث کے درجے (صحیح یا ضعیف ہونا) پر بات کرتے ہیں، سند کی باریکیاں اور کمزوریاں (علل) واضح کرتے ہیں، اور یہ بھی بتاتے ہیں کہ یہ حدیث اور کن کن راستوں (طرق) سے آئی ہے۔
گویا امام ترمذیؒ نے ایک ہی کتاب میں دو بڑے مقاصد کو اکٹھا کر دیا ہے:
ان دونوں خوبیوں کے ساتھ ساتھ انہوں نے رائج اور غیر رائج مذاہب کے اختلافات اور دیگر علمی فائدے بھی شامل کیے ہیں، جو اس کتاب کو باقی تمام کتابوں سے ممتاز اور جدا کرتے ہیں۔
امام عبداللہ بن محمد الانصاری الہراتیؒ کا تبصرہ:
”میرے نزدیک جامع ترمذی، امام بخاری اور امام مسلم کی کتابوں سے زیادہ فائدہ مند ہے۔ وہ اس لیے کہ بخاری اور مسلم کی کتابوں سے صرف وہی شخص فائدہ اٹھا سکتا ہے جو پہلے سے بہت بڑا اور گہرا عالم ہو، جبکہ امام ترمذیؒ کی کتاب اتنی آسان اور واضح ہے کہ اس سے ہر شخص (خواہ وہ طالب علم ہی کیوں نہ ہو) آسانی سے فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔“
خود امام ترمذیؒ کا تاریخی فرمان (امام ذہبیؒ نقل کرتے ہیں):
”جب میں نے یہ کتاب مکمل کر لی، تو اسے حجاز (مکہ و مدینہ)، عراق اور خراسان کے بڑے بڑے علماء کے سامنے پیش کیا۔ ان سب نے اسے بہت پسند کیا اور اس کی تائید کی۔ اور یاد رکھو! جس کے گھر میں یہ کتاب موجود ہو، تو گویا اس کے گھر میں خود اللہ کے نبی ﷺ موجود ہیں جو گفتگو فرما رہے ہیں۔“
حدیث کی باقی پانچ کتابوں (صحاح ستہ) کے مقابلے میں جامع ترمذی میں کچھ ایسی خوبیاں ہیں جو کسی اور میں نہیں ملتیں؛ جیسے احادیث کو بہترین ترتیب سے لانا، علومِ حدیث کی وضاحت کرنا، راویوں کے ناموں اور ان کی کنیتوں کے فائدے بتانا، جرح و تعدیل (راویوں کی جانچ پڑتال) کرنا، اور فقہی مذاہب و کمزوریوں (علل) کو کھول کر بیان کرنا۔
📌 سب سے انوکھی خصوصیت — جو صرف جامع ترمذی میں ہے:
امام ترمذیؒ ہر باب کے آخر میں ان تمام صحابہ کرامؓ کے ناموں کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں جنہوں نے اس موضوع پر نبی کریم ﷺ سے کوئی بھی حدیث روایت کی ہو۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ دیکھنے والے کو پہلی ہی نظر میں معلوم ہو جاتا ہے کہ اس مسئلے پر کتنے صحابہؓ سے روایات موجود ہیں۔ یہ ایسی لاجواب خصوصیت ہے جس میں دنیا کے کسی بھی دوسرے مصنف نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔
انھی بے مثال خوبیوں کی وجہ سے یہ کتاب حدیث کے طلباء و طالبات کے لیے ایک بنیادی سرمایہ ہے، جسے پورے غور و فکر اور تحقیق کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ اس میں علمی اختلافات کا حل موجود ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی جامعات اور مدارس میں حدیث کے طلباء کے ہاں اس کتاب کا مرتبہ بہت ہی بلند ہے۔
قدیم اور جدید دور کے بے شمار علماء نے اس مبارک کتاب کی شروحات لکھی ہیں۔ عربی زبان کی ۴ سب سے مشہور شروحات:
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں امام ترمذیؒ کی اس عظیم محنت کو سمجھنے، اس کے نور سے اپنے سینوں کو منور کرنے اور نبی کریم ﷺ کی سنتوں پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
علمِ حدیث کی سب سے بڑی برکت ”سند“ ہے، یعنی ہمارے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان مبارک ہستیوں کا وہ سلسلہ جو حدیثِ پاک کو ہم تک پہنچاتا ہے۔ یہ امتِ محمدیہ کی وہ خصوصیت ہے جو دنیا کی کسی اور امت کے پاس نہیں ہے۔
آپ کے لیے یہ بات انتہائی سعادت اور فخر کا باعث ہے کہ جس کتاب (جامع ترمذی) کا آغاز ہم کر رہے ہیں، اس کی سند اور اجازت مجھے (عبیداللہ اجمل کو) براہِ راست برصغیر کے مایہ ناز اور جلیل القدر محدث حضرت مولانا مفتی حمید اللہ جان صاحب رحمہ اللہ (سابق شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ، لاہور) سے حاصل ہے۔ مفتی صاحبؒ کی یہ سند علمی میدان میں بہت ہی عالی اور نورانی مانی جاتی ہے، کیونکہ انہیں علمِ حدیث کے ۴ بڑے اور الگ الگ سلسلوں سے فیض حاصل ہوا تھا:
یہ وہ عالی سند ہے جو ہمیں مصر اور بلادِ عرب کے بڑے محدثین سے جوڑتی ہے:
یہ سند اس لحاظ سے بہت اونچی ہے کہ اس میں مفتی صاحبؒ اور دارالعلوم دیوبند کے سب سے بڑے شیخ الحدیث کے درمیان کوئی دوسرا واسطہ نہیں ہے:
یہ مفتی صاحبؒ کا اپنے والدِ محترم کے واسطے سے خاندانی علمی سلسلہ ہے:
عزیز طلبہ و طالبات! اب آپ خود غور فرمائیں کہ آپ جس مسند پر بیٹھ کر ترمذی شریف پڑھنے جا رہی ہیں، اس کا علمی سلسلہ کتنا مضبوط ہے۔ ہماری اس سند کے تمام راستے (پہلی، تیسری اور چوتھی سند) آگے جا کر شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے مبارک واسطے پر جمع ہو جاتے ہیں، جو شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ سے ہوتے ہوئے براہِ راست اس کتاب کے مصنف امام ابو عیسیٰ الترمذیؒ اور پھر ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک پہنچتے ہیں۔
اس لیے آپ سب پورے ذوق، شوق، اخلاص اور کمالِ ادب کے ساتھ اس مبارک کتاب کو پڑھیں اور یاد رکھیں کہ آپ کے اور اللہ کے رسول ﷺ کے درمیان یہ علمی واسطے نہایت ہی مختصر، نورانی اور مستند ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حدیثِ پاک کا سچا فہم اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔